Self Improvement, Successful Mindset

ناکامی سے کامیابی کا سفر – جانئے آپ کی راہ میں کیا عوامل حائل ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

وہ کہتے ہیں کہ ”محنت میں عظمت ہے“ بالکل درست ہے۔ اکثر لوگ محنت سے گھبراتے ہیں اور پھر ناکامیوں کی ذمہ داری اپنی قسمت پر  ہی تھوپ دیتے ہیں۔ لیکن دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات محنت و لگن سے کام کرتے ہیں، مگر پھر بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  یہ  نہایت مایوس کن صورتحال ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی اتنی جدوجہد  کے بعد ناکامی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس موقع پر زیادہ تر  لوگ ہمت ہار بیٹھتے ہیں، وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

ناکامی، کامیابی کی جانب پہلا قدم

مشہور ویب سائٹ  Quora.comمختلف سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کیلئےکافی شہرت رکھتی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پوچھا گیا کہ، ”جب زندگی میں ہر طرف ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو انسان کو کیا کرنا چاہیئے؟“ امریکی کالم نگار رائین ہالی ڈے، جو مشہور کتاب ”Ego Is the Enemy“ (اناء آپ کی دشمن ہے) کے مصنف بھی ہیں، نے اس مسئلے کے حل کیلئے دلچسپ اور مفید جواب لکھا ہے۔ رائین  لکھتے ہیں،

 کامیاب امریکی مصنف مزید لکھتے ہیں،

 ”ناکامی دراصل ایک گڑھے کی مانند ہے، جس میں ا گر  آپ گر جائیں تو اسے مزید گہرا کرنے  کے بجائے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اس گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کریں“۔

رائین کی دونوں باتیں کافی حد تک درست اور مسئلہ کے حل کیلئے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ناکامی سے لڑنا ہی انسان کے حوصلے کو مزید مضبوط بناتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرعزم لوگ زندگی میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ ڈسکوری چینل کے سائنس ٹی وی شو  ”متھ بسٹر“ (MythBuster) کے میزبان ایڈم سیویج  کا قول ہے، ”ناکامی کا آپشن  ہمیشہ موجود رہتا ہے“ ۔ لہذا اس کیلئے تیار رہیں  اور ناکامی کی صورت میں جلد بازی  میں جذباتی فیصلے کرکے صورتحال کو مزید خراب  نہ کریں بلکہ دانشمندانہ اقدامات اٹھائیں  تاکہ آپ ناکامی کی دلدل میں دھنسنے کے بجائے اس سے کامیابی سے نکل پائیں۔ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرکے ان  سے سبق سیکھنا دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے!

“ذاتی انا” ناکامی کی ضمانت

رائین ہالی ڈے کہتے ہیں،

”زندگی میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ہر چیز کو ”اناء کا مسئلہ“ نہ بنائیں کیونکہ دراصل اناء ہی انسان کو ناکامی قبول کرنے سے روکتی ہے “۔

 میں ایک ایسے نوجوان کو جانتا ہوں جس نے ایک نجی بینک میں ملازمت کیلئے درخواست دی جو مسترد ہوگئی  اور وہ کسی اور کمپنی میں کام کرنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد ایک بزنس تقریب میں نوجوان کو اسی بینک کا سینئر منیجر مل گیا۔  اس مرتبہ قابلیت سے متاثر ہوکر منیجر نے اسے اچھی جاب آفر کردی۔ تاہم اس بار نوجوان نے  ملازمت کی پیشکش ٹھکرا دی اور  یوں اسے اپنی ”اناء“ کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی مرتبہ وہ بالکل نیا ناتجربہ کار لڑکا تھا اس لئے اسے ملازمت نہیں ملی لیکن دوسری مرتبہ جب ”ڈریم جاب“ نے خود اس کے دروازے پر دستک دی تو اس نے  انکار کرکے ناکامی کا ایک اور باب رقم کر ڈالا!

اپنے اعصاب اورکردار کو مضبوط رکھیئے

اس سوال کے جواب  رائین نے امریکی کارساز کمپنی  ”ڈی لورین“ کے   بانی کا بھی ذکر کیا ہے۔ جنرل موٹر کمپنی کے سابق ملازم جان زی ڈی لورین نے1970 کی دہائی میں ”ڈی لورین موٹر کمپنی“ کے نام سے اپنی نئی کار ساز فیکٹری قائم کی۔ اس کارخانے میں انہوں نے اپنی پسندیدہ سپورٹس کار ”ڈی ایم سی 12“ بنا ڈالی۔ یہ کار دلکش اور اس زمانے کے لحاظ سے بہت منفرد تھی تاہم زیادہ قیمت اور بعض دیگر وجوہات کی بناء پر بہت کم کاریں ہی فروخت ہو پائیں۔ 1982 میں جب مسٹر ڈی لورین دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے، انہوں نے کوکین (منشیات) کا دھندہ کرکے جلدی سے پیسے بنانے اور کمپنی بچانے کی کوشش کی۔ لیکن ”بدقسمتی “ سے  پولیس نے انہیں منشیات سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔2 سال بعد بڑی مشکل سے  ڈی لورین  کو مقدمے سے رہائی تو مل گئی مگر اس موٹر کمپنی کا بیڑہ غرق ہوگیا  اور ڈی ایم سی 12 ان کی پہلی اور آخری کار ثابت ہوئی۔  یہاں ڈی لورین ہر صورت اپنی کمپنی بچانا چاہتا تھا لیکن اس نے مسئلے کے حل کیلئے جو غلط طریقہ  اختیار کیا اس کی وجہ سے نہ صرف اسے دیوالیہ ہونا پڑا بلکہ وہ دنیا کی نظر میں مجرم بھی بن گیا۔ اسی لئے رائین نے آخر میں قدیم رومن شہنشاہ مارکس اوری لیئس کا قول لکھا ہے،

  ”یہ (ناکامی) صرف اسی صورت میں آپ کی زندگی برباد کر سکتی ہے جب یہ آپ کا کردار تباہ کر ڈالے“۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn