Self Improvement, Successful Mindset

کامیاب اور خوشحال زندگی کا راز – کیا کامیاب اور خوشحال زندگی ایک ساتھ ممکن ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

آپ نے اکثر  لوگوں کو یہ کہتے تو سنا ہی ہوگا کہ فلاں شخص بڑی کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ”کامیاب زندگی“ کامعیار کیا  ہے؟ کیا کامیاب اور ناکام زندگی کے درمیان کوئی لکیر کھینچی جاسکتی ہے؟  کیا کامیاب لوگ ہمیشہ خوش رہتے ہیں؟

بہترین فروخت ہونے والی کتاب ”Emotional Intelligence 2.0“ کے شریک مصنف اور E-Q (جذباتی ذہانت) کیلئے بہترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی”ٹیلنٹ سمارٹ“ کے صدر ڈاکٹر ٹریوس بریڈ بری نے کامیاب اور مطمئن زندگی کے موضوع پر ایک معلوماتی مضمون لکھا ہے۔ ہم نے  معروف بین الاقوامی جریدوں کے مصنف کے نظریات کی روشنی میں کامیاب زندگی کے اصل معنی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

صرف خوابوں کی تعبیر حاصل کرنا کامیاب زندگی کی ضمانت نہیں

عام طور پر لوگ اپنی خواہشوں کی تکمیل کو کامیابی کا پیمانہ سمجھتے ہیں۔ مگر ایوارڈ یافتہ امریکی مصنف اس بات سے متفق نہیں ، وہ لکھتے ہیں،”کسی خاص مقصد میں کامیابی سے دیرپا خوشی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ایک مرتبہ اپنے ہدف کو حاصل کرلینے کے بعد انسان ایک نئے خواب کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے“۔ مثال کے طور پر پیشہ وارانہ کیرئیر کا آغاز کرنے والے بیشتر نوجوان اپنی کامیابیوں سے مطمئن نہیں ہوتے اور وہ اپنی زندگی کو خوشحال نہیں سمجھتے۔ چند سال قبل یہی نوجوان اپنے والدین سے جیب خرچ لیتے تھے، کچھ بھی نہیں کماتے تھے اور کئی کے پاس اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل بھی نہیں تھی۔ تب ان کے خواب اپنا ذریعہ آمدنی اور ذاتی سواری وغیرہ تک محدود تھے۔  لیکن جیسے ہی یہ اہداف حاصل ہوئے، انہوں نے مزید خواب دیکھنے شروع کردیئے ۔ زیادہ حاصل کرنے کی خواہش بری نہیں لیکن کسی خاص مقصد کے حصول کو خوشی کا ذریعہ سمجھنا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جیسے ہی آپ کا ایک مقصد پورا ہوگا، ایک نیا ہدف سامنے آجائے گا اور آپ پرانی کامیابی  حاصل کرکے بھی اتنی خوشی حاصل نہیں کرپائیں گے۔

کامیاب اور خوشحال لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں؟

ڈاکٹر ٹریوس بریڈ بری لکھتے ہیں،”ہارورڈ بزنس سکول نے کامیاب لوگوں پر ایک تحقیق کی جس میں ان سے کامیابی اور خوشی کا راز جاننے کی کوشش کی گئی“۔ اس تحقیق کے نتائج  سے معلوم ہوا کہ کامیاب اور خوشحال لوگ ان چار 4 سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہیں:

1۔ مقاصد کے حصول کے بجائے اس کیلئے محنت کو خوشی کا ذریعہ بنانا

2۔ایسے حقیقت پسند مقاصد کا انتخاب جنہیں  حاصل کرنا ممکن ہو

3۔ایسے کام کرنا جو دوسروں کی زندگی پر بھی مثبت اثر ڈالیں

4۔ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا جن سے حاصل کئے علم اور کامیابیوں کو نئی نسل تک منتقل کیا جاسکے

مختصر یہ کہ کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنے والے افراد کوئی  خاص مقصد حاصل کرنے تک خوشی کا انتظار نہیں کرتے بلکہ وہ اس کیلئے جس محنت و لگن سے کام کرتے ہیں وہی ان کی خوشی کا راز ہوتا ہے۔ اور پھر جب انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو انہیں مزید ذہنی اطمینان  حاصل ہوتا ہے۔ آنجہانی عبدالستار ایدھی ایسے ہی افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے کسی خاص ہدف کے بجائے انسانیت کی خدمت کو خوشی کا ذریعہ بنایا، انہوں نے حقیقت پسند مقاصد کا انتخاب کیا ، ان کی فلاحی سرگرمیوں سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہوئی اور ورثے میں پاکستان کیلئے ایدھی فاؤنڈیشن جیسا عظیم ادارہ  چھوڑ  گئے۔

عام طرز زندگی  سے کامیابی اور اطمینان ممکن نہیں

مضمون میں ڈاکٹر بریڈ بری مشہور سوئس ماہر نفسیات کارل ینگ کا قول بیان کرتے ہیں، ”عام طرز زندگی ناکام لوگوں کا پسندیدہ مقصد ہوتا ہے“۔امریکی مصنف مزید  لکھتے ہیں:

”کامیاب لوگ اپنے کام ادھورے نہیں چھوڑتے۔ اگرآپ کے پاس ایک بہترین آئیڈیا ہے مگر آپ اسے عملی جامہ نہیں پہناتے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں“۔

عام طرز زندگی اپناتے ہوئے منفرد اور اچھوتے آئیڈیاز کو عملی شکل دینا ممکن نہیں۔  اس لئے اگر آپ اپنے منفرد منصوبے کو قابل عمل سمجھتے ہیں تو اسے کامیاب بنانے کیلئے عام سوچ سے ہٹ کر کام کرنا ہوگا۔ شروع میں ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے مگر مثبت سوچ رکھنے والےافراد ناکامی کو ذہن پر سوار نہیں کرتے بلکہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر بار بار کوشش کرتے ہیں۔  اور اس سوچ کو ذہن سے نکال دیں کہ  ”لوگ کیا کہیں گے“ کیونکہ  بل گیٹس، سٹیو جابز اور اینڈی روبن (اینڈرائیڈ کے مؤجد) سمیت دنیا کے کامیاب ترین افراد نےکچھ منفرد کام کئے اور اپنی عقل، محنت اور عزم کی وجہ سےانہیں بھرپور  کامیابی ملی۔

جان ہے تو جہان ہے!

محنت کرنا اچھی بات ہے لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے صحت کو نظر انداز کر دینا کوئی عقلمندی نہیں۔ ڈاکٹر بریڈ بیری لکھتے ہیں:

”کامیابی او ر خوشحالی میں صحت کا کردار بہت اہم ہے۔ کامیاب لوگ ہمیشہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں“۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ پہلے انسان پیسہ کمانے کیلئے اپنی صحت داؤ پر لگاتا ہے اور پھر اسی کمائے ہوئے پیسے سے صحت بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اچھی نیند، مناسب آرام اور ورزش کیلئے کچھ وقت ضرور مختص کریں تاکہ آپ  صحت مند اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

حسد خوشی کا دشمن ہے

امریکی مضمون نگار لکھتے ہیں:

”وہ (کامیاب لوگ) دوسروں کی کامیابیوں سے خوش ہوتے ہیں جبکہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے والے (ناکام) لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے اور وہ دوسروں پر بلاوجہ تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے“۔

دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنے سے انسان خود کامیاب تو نہیں ہوتا مگر اس سے نفسیاتی دباؤ مزید بڑھتا ہے جس سے خوشی اور ذہنی اطمینان کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس دوسروں کی کامیابیوں سے متاثر ہوکر کچھ نیا سیکھنے سے جوش و جذبے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنی اہمیت سمجھیں، دوسروں کے اچھے کاموں کی تعریف کریں اور حسد کو زندگی سے نکال دیں۔

دوسروں سے اپنی زندگی کا موازنہ مناسب نہیں

آپ کو کامیابی کیلئے اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ نہیں کرنا چاہیئے، ایسا کہنا ہے ڈاکٹر ٹریوس بریڈ بری کا جنہوں نے خوشحال اور کامیاب افراد پر اچھی ریسرچ کی ہے۔ اگر آپ دوسروں کو صرف اس وجہ سے خوشحال سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس آپ سے زیادہ بڑا گھر، مہنگی گاڑی اور زیادہ پیسہ ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ کا اندازہ غلط ہو۔ ضروری نہیں ہر امیر شخص بہت زیادہ خوشحال ہو۔ صرف وہی دولت مند لوگ مطمئن خوشحال زندگی گزارتے ہیں جو اپنے پیشے سے پیار کرتے ہیں اور محنت و لگن سے کام کرنے میں خوشی تلاش کرلیتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn