Self Improvement, Successful Mindset, Upbringing and Training

وہ صفات جو آپ ایک باہمت ماں کی تربیت سے سیکھ سکتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

محبت کے بغیر زندگی ادھوری ہے اور جب بات ہو بے لوث محبت کی تو ماں کا رشتہ سرفہرست ہے۔ دنیا میں شائد ہی کوئی ایسی ماں ہوگی جو اپنی اولاد سے محبت نہ کرتی ہو۔ اور جب ماں ایک باہمت خاتون ہو تو وہ اپنی اولاد کی تربیت بھی بہت اعلیٰ انداز میں کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں سے محبت کے ساتھ ساتھ انہیں کامیاب زندگی گزارنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے تاکہ وہ مستقبل میں پریشانیوں کا مقابلہ کر سکیں کیونکہ کوئی ماں اپنی اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔

معروف معلوماتی  ویب سائٹ ”تھوٹ کیٹالوگ“ (Thought Catalog) پر خاتون مصنف رانیہ نائم کی یہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہو جس میں انہوں نے بہادر باہمت ماؤں کے بارے میں دلچسپ حقائق بیان کئے ہیں۔  اس مضمون کا مختصر تجزیہ پیش خدمت ہے۔

پرعزم اور با ہمت  زندگی گزارنے کا ہنر

رانیہ نائم لکھتی ہیں:

”ایک بہادر ماں اپنے بچوں  کو خود انحصاری سکھاتی ہے۔ وہ گھر یلو اور دفتری اموربخوبی سرانجام دیتی ہے۔ پرعزم خاتون مشکلات سے مقابلے کیلئے  کسی مرد کا سہار ا نہیں لیتی اور  بھرپور زندگی گزارتی ہے۔“

ایسے میں جب بچے اپنی ماں کو سب کام خود کرتا دیکھتے ہیں تو ان میں بھی خود انحصاری کا شوق پیداء ہوتا ہے اور وہ اپنے کام خود کرنے لگتے ہیں۔ ماں اپنے بچوں کیلئے رول ماڈل ہوتی ہے، زیادہ تر اچھی اور بری عادات بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں۔  خاص طور پر بیٹیاں ماں سے بہت کچھ سیکھتی ہیں، اگر ماں پرعزم اور باہمت ہے تو جوان ہو کر بیٹی بھی باحوصلہ خاتون بنے گی اور مردوں کے نامناسب رویئے کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے گی۔

بے لوث محبت اور قربانی کا جذبہ

ماں کا پیار بے مثال ہوتا ہے، وہ اپنے بچوں کو بہت کچھ سکھاتی ہے اور برے وقت میں ان کا حوصلہ بھی بڑھاتی ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں:

”یہ ماں ہی ہے جو آپ کو مشکلات میں حوصلہ دیتی ہے، اگر پوری دنیا آپ کے خلاف ہوجائے تب بھی ماں ہی آپ کے اندر خود اعتمادی کو پروان چڑھاتی ہے اور ناکامیوں پر ٹوٹے دل جوڑنا بھی ماں خوب جانتی ہے۔“

چونکہ ایک باہمت خاتون اپنی اولاد سے بے حد پیار کرتی ہے، اس لئے وہ چاہتی ہے کہ اولاد کی پرورش اس انداز میں ہو کہ انہیں خود پر یقین ہو اور وہ احساس کمتری میں مبتلا نہ رہیں۔ ماں کی بے لوث محبت کے بارے میں رانیہ لکھتی ہیں، ”ماں اپنے بچوں کیلئے اپنی اپنا قیمتی وقت، صحت اور جوانی قربان کردیتی ہے اور کبھی بھی ان سے شکایت نہیں کرتی“۔ یقیناً ایسی بے لوث محبت کہیں اور سے ہرگز نہیں مل سکتی، لہذا اس کی قدر کرنی چاہیئے۔

صبر، ایمان اور امید کا سبق

رانیہ نائم اپنے مضمون میں لکھتی ہیں:

”باہمت ماں اپنے بچوں کو برے حالات سے لڑنا سکھاتی ہے۔ وہ انہیں خدا پر پختہ ایمان رکھنے کا درس دیتی ہے کیونکہ مضبوط ایمان ہی ہمیں مشکل وقت میں صبر کرنا سکھاتا ہے۔“

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک پرعزم اور باہمت ماں بہت سخت پتھر دل ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی خواتین بہت حساس ہوتی ہیں مگر وہ لوگوں کے سامنے اور خاص طور پر اپنی اولاد کے سامنے اپنے غم چھپانے کا ہنر خوب جانتی ہیں۔ رانیہ لکھتی ہیں:

”بہادر ماں اپنی اولاد کے سامنے نہیں روتی۔ وہ مشکل وقت میں اپنے بچوں کو گلے  لگاتی ہے جس سے انہیں بہت حوصلہ ملتا ہے۔ لیکن میں نے کئی مرتبہ اپنی ماں کو مشکل وقت میں چھپ کر آنسو بہاتے دیکھا ہے، باہمت ماؤں کا دل بھی حساس ہوتا ہے لیکن وہ دوسروں کو اپنی تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیتیں!“

ہر ماں اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے لیکن صبر کرنا صرف باہمت خواتین ہی خوب جانتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی صبر کا درس دیتی ہیں۔

مشکل حالات میں خوش رہنے کا فن

برے وقت کا اچھے انداز میں مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کیلئے خوشی کا ذریعہ ڈھونڈا جائے۔ مصنفہ اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتی ہیں، ”میری ماں نے مجھے ہمیشہ یہ نصیحت کرتی رہتی ہے کہ ہمیشہ میرے چہرے پر مسکراہٹ ہونی چاہیئے۔ اور ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں، بس آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں تلاش کرنے کی کوشش کرنا ہوگی!“۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، دوستوں سے خوشگوار گفتگو اور ٹی وی پر ہلکا پھلکا کامیڈی پروگرام دیکھ لینے سے خوشی کے مواقع میسر آسکتے ہیں خواہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

بہترین مثالی  ماں بننے کی تربیت

ماں کی محبت بلاشبہ بے لوث ہوتی ہے اور وہ آپ سے اس کے بدلے میں کچھ نہیں مانگتی۔ مگر اخلاقی طور پر آپ کو اس محبت کا صلہ ضرور دینا چاہیئے۔ جب ایک باہمت ماں اپنی بیٹی کی بہترین تربیت کرتی ہے تو اس میں ایک سبق یہ بھی ہوتا ہے کہ بڑی ہو کر جب وہ خود ماں بن جائے تو وہ بھی اپنے بچوں کی بہترین پروروش کرے اور یوں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہے۔ رانیہ نائم مضمون کے احتتام پر لکھتی ہیں، ”ماں نے آپ کی پروروش کے دوران آپ کو احساس تحفظ، پیار، ہمدردی اور حوصلہ دیا۔ وہ دراصل آپ کو اس بات کا درس دے رہی ہے کہ آپ نے بھی اپنی اولاد کی ایسے ہی دیکھ بھال کرنی ہے اور نہیں بھرپور زندگی جینے کا ہنر سکھانا ہے“۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn