Awesome, Videos

ریشما سوجانی لڑکیوں میں بھرپور اعتماد لانے کے لئے سرگرمِ عمل

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

سب اِس بات کومانتے ہیں  کہ  کوئی بھی شخص  بغیر پے در پےناکامیوں کے کامیابی کے زینے پر نہیں چڑھ سکتا، لیکن جب بات آتی ہے لڑکیوں کی ، تو سب چاہتے ہیں کہ وہ بہترین کارکردگی دکھائیں اور بغیر کسی ناکامی کے مکمل نمونہ بن جائیں۔دوسری طرف لڑکوں کے بارے میں بالکل برعکس امیدیں رکھی جاتی ہیں، مثلاً یہ کہ اُنہیں بہادر ہونا چاہیے اور ناکامیوں کا سامنا جوانمردی سے کرنا چاہیے۔صنفی تربیت میں یہ تضاد قابلِ غور ہے۔

اِسی نکتے کو اُٹھایا ہےریشما سوجانی  نے ونکیوور کی سالانہ کانفرنس میں، جہاں اُن کی تقریر نے سب سامعین کی آنکھیں کھول دیں۔ted.comپر اُن کی تقریر کی ویڈیوآج کل ہر شخص کی زبان پر ہے۔

اِس ویڈیو میں ریشما کہتی ہیں کہ

زیادہ تر لڑکیوں کو ناکامی اور خطرہ مول لینے سے بچنا سکھایا جاتا ہے۔خوش رہنے اور خوش رکھنے کے لئے بس اے گریڈ لینا ہے، جبکہ لڑکوں  کو کہا جاتا ہے کہ تھوڑی بہت محنت کرو، اُونچے خواب دیکھو اور کامیابی کے لئےہر خطرہ مول لینے کو تیار رہو۔ہم اپنی لڑکیوں کو کامل ہونے اور لڑکوں کو بہادر ہونے کی تربیت دے رہےہیں۔

ریشما کی اِس بات میں وزن ہے اور اِسے سب نے سراہا۔ اِسی تفاوت کی وجہ سےلڑکیاں  خود کو پُراعتماد نہیں  سمجھتیں اورجلد ہمت ہار بیٹھتی ہیں  لیکن لڑکے بہادر بننے کے چکر میں بار بار کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔اِس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لڑکیاں کچھ پوچھنے میں عار محسوس کرتی ہیں جبکہ لڑکے بنا ء کسی جھجھک کے بھری محفل میں سوال کرتے ہیں۔حالانکہ لڑکیوں کی قابلیت کسی طور لڑکوں سے کم نہیں۔

ریشما کے مطابق انہوں نے سیاسی میدان میں کافی بہادری کی داغ بیل ڈالی ہے۔وہ اِس طرح کہ  جب انہوں نے کانگریس میں حصہ لیا تو ہر کوئی اُنہیں پاگل   کہنے لگا اور یہ کہ ایک مستقل سیاسی ونر کی موجودگی میں ایک لڑکی  کیسےجیت سکتی ہے؟اُنہیں صرف 19 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔وہی اخبار جس نے اُن کو ایک ابھرتا ستارہ قرار دیا تھا، الیکشن میں اِس  نتیجے پر یہ مشہور کر رہا تھا کہ اُنہوں نے  اتنا پیسہ اپنے ووٹرز  پر لگا کر ضائع کر دیا۔

جی ہاں! یہ ہمارے معاشرے کا ایسا رُخ ہے جسے ہم سب کو مل کر بدلنا ہو گا۔لوگ  ہار جیت کا حساب کتاب کرنے کی بجائے یہ بھی تو سوچ سکتے تھے کہ ایک لڑکی ہو کر بھی  ریشما نے تن تنہااتنی ہمت کا کام کیا۔اُن کے اِس قدم نے لڑکیوں میں شعور اجاگر کیا ہے کہ انہیں پریشان اور خوفزدہ نہیں رہنا چاہیے کہ ہر صورت پرفیکٹ  ہی رہنا ہے۔

ریشما سوجانی نے مزید کہا کہ

“ہم اپنی نصف آبادی کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔ہمیں اپنی لڑکیوں کو سوشلائز کرنا ہےکہ اُن سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ہمیں ابھی سے یہ کرنا ہو گا۔ہم اُن کے بہادر ہونے کے لئے اتنا انتظار نہیں کر سکتے جتنا کہ میں نے کیا جب میں 33 سال کی تھی۔”

اگر آپ بھی ریشما کی بات سے اتفاق کرتے ہیں تو آئیے  اُن کے ساتھ ہم آواز ہوں اور اپنی خواتین کے دِل سے ازلی خوف کو باہر نکالیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

One Comment

Comments are closed.