Self Improvement

کیا آپ اپنی ذات سے محبت کرتے ہیں؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

دوسروں سے پیار کرنا عام  بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی اپنی ذات سے پیار کے بارے میں سوچا ہے؟ اس پر  خاتون مصنف  کیٹرینا کوسٹلا نے ایک دلچسپ تحریر لکھی ہے۔ انہوں نے اس آرٹیکل میں امریکی سکالر برین براؤن کی مشہورکتاب ’The Gifts of Imperfection‘کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کوئی انسان اپنے آپ سے زیادہ کسی دوسرے سے محبت نہیں کرسکتا۔  ہفنگ ٹن پوسٹ کی مصنفہ لکھتی ہیں،

”اگر آپ خود سے پیار نہیں کرتے تو دوسروں سے دیر پا خوشگوار تعلقات نہیں قائم کر پائیں گے“۔

اپنی ذات سے محبت کیسے کی جائے؟

کٹرینا کوسٹلا کہتی ہیں،

”اپنے پیاروں سے نامناسب رویئے کی بڑی وجہ آپ کے اپنے ذاتی مسائل ہوتے ہیں۔ تھکاوٹ، غصہ، بے چینی اور احساس ندامت محبت کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں“ ۔

خود سے نفرت دراصل احساس کمتری کا دوسرا نام ہے۔ خود کو بلاوجہ دوسروں سے کم تر سمجھنے سے انسان میں خود اعتمادی ختم ہوجاتی ہے اور خود اعتمادی کی کمی دوسروں سے محبت کرنے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

خراب انفرادی  رویئے دوسروں کیلئے بھی نقصان دہ

احساس کمتری، اپنی ذات سے بیزاری اور خود کو تباہ کرنے والی عادات کے اثرات صرف ایک شخص تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی فیملی اور دوست احباب بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ کیٹرینا  اپنی تحریر میں لکھتی ہیں،

”سگریٹ نوشی ایک ایسی بری عادت ہے جس سے صرف  تمباکو  پینے والا ہی نہیں متاثر ہوتا بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگ بھی آلودہ دھویں کی وجہ سے  بیمار ہوسکتے ہیں“۔

انہوں نے اپنی فیملی کا ایک دلچسپ تجربہ بھی بیان کیا ہے۔

”ہم (میاں بیوی) خود  ٹافی اور کینڈی وغیرہ بڑے شوق سے کھاتے تھے لیکن اپنی چھوٹی بچی سے چھپا کہیں کر رکھ دیتے تھے۔ اور وہ انہیں ڈھونڈتی رہتی  کیونکہ اسے بھی میٹھا کھانا پسند ہے۔ پھر ہم نے سوچا کہ اگر اپنی بیٹی کو صحت مند غذا کھانے کی ترغیب دینی ہے تو پہلے ہمیں خود اس کا آغاز کرنا پڑے گا“۔

 یہاں خراب انفرادی رویئے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی ذات سے پیار نہیں کرتے اور اس لئے اپنا خیال نہیں رکھتے جس سے آپ کے پیاروں پر بھی برا اثر پڑتا ہے.

اپنے لئے وقت نکالنا خودغرضی نہیں

امریکی مصنفہ لکھتی ہیں،

”جب میں چھوٹی تھی تو والدین سے سیکھا تھا کہ اپنے نفس کی قربانی ہی محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ خاص طور پر جب اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں تو اپنی ذات کی قربانی دینا پڑتی ہے“۔

تاہم برین براؤن کی کتاب سے متاثر مس کٹرینا اب اس فلسفے کو درست نہیں سمجھتی۔  گھر یلو اور دفتری امور کے بعد اپنی ذہنی اور جسمانی صحت برقرار رکھنے کیلئے کچھ وقت نکالنا بہت ضروری ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے اپنا خیال رکھنے کیلئے وقت نکالنا شروع کیا تو اس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔ وہ کہتی ہیں،

 ”اپنی ذات پر توجہ دینے سے میرا  موڈ خوشگوار ہوگیا  اور مجھ میں برداشت کی صلاحیت بھی مزید بڑھ گئی۔ اب میں اپنی فیملی سے مزید پیار کرنے لگی ہوں اور میرے دوست بھی اس خوشگوار تبدیلی کی خوب تعریف کرتے ہیں“۔

بے وجہ غلطیاں نکالنا اور خود کو کوسنا چھوڑیں

بعض لوگ بے ضرر چیزوں کو بھی برا جانتے ہیں، وہ اس پر اپنی ذات سے خفا رہتے ہیں اور دوسروں میں بھی انہیں بے وجہ عیب نظر آتے ہیں۔  مثلاً پست قد کے حامل  افراد احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں، چونکہ انہیں اپنے اندر یہ ”عیب“ معلوم ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنے پیاروں میں بھی ایسے”عیب“ تلاش کر لیتے ہیں۔ کٹریناکوسٹلا لکھتی ہیں،

”اپنے عیبوں کو تسلیم کریں اور اپنی غلطیوں پر خود کو معاف کرنا سیکھیں ۔ اپنی قابلیت پر یقین رکھیں۔ایسا کرنے سے  ہی آپ دوسروں کے عیب اور غلطیوں کو بھی نظر انداز کرپائیں گے“۔

ضروری نہیں کہ آپ کا بچہ ہر مضمون میں 80 فیصد نمبر حاصل کرے یا آپ کی بیوی ہر طرح کے کھانے بنانے میں مہارت رکھتی ہو۔ ہر ایک کی اپنی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں، اگر اپنی ذات سے پیار کرنا ہے تو خامیوں کے بجائے خوبیوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ ۔ لہذا خود کو ”بے عیب“ بنانے کے خبط سے آزاد کریں تاکہ آپ خود سے اور دوسروں سے زیادہ سے زیادہ محبت  کرسکیں!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn