Self Improvement, Successful Mindset, Upbringing and Training

صرف ایک منٹ میں کامیاب زندگی کا ہنر سیکھیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

تحمل مزاجی  ہی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے

دنیا کا ہرانسان کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے مگر اس کیلئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے انسان کو ہر وقت کچھ نیا سیکھتے رہنا چاہیئے۔ نامور بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن مشہور ٹی وی شو  ”کون بنے گا کروڑ پتی“ کی پرموشن کے دوران کہتے تھے، ”سیکھنا بند تو جیتنا بند!“۔ لیکن زیادہ تر لوگ کچھ نیا سیکھ کر آگے بڑھنے کے بجائے ”شارٹ کٹ“ سے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہنر سیکھنا کامیاب زندگی کیلئے کون سا چاہیئے؟

مختلف سوالوں کے جوابات تلاش کرنے والی شہرت یافتہ  ویب سائٹ Quora.com پر کچھ ایسا ہی منفرد سوال پوچھا گیا کہ، ”ایک منٹ میں ایسا کیا سیکھا جاسکتا ہے جو زندگی بھر کام آئے؟ 100 سے زائد افراد نے اس سوال کے مختلف جوابات لکھے ہیں تاہم ان میں سب سے منفرد اور بہترین جواب نیلسن وانگ نامی کامیاب کاروباری شخصیت کا ہے۔ مشہور ویب سائٹ  ceolifestyle.io کے بانی اور بہترین کتابوں کے مصنف چینی نژاد نیلسن وانگ نے یہاں ایک  ایسا ہنر بتایا ہے جسے سیکھنے میں صرف ایک منٹ لگے مگر زندگی بھر کام آئے۔ لیکن یہ ہنر ”شارٹ کٹ“ کے شوقین افراد کیلئے شائد ایک منٹ میں سیکھنا ممکن نہ ہو۔ محنت کرکے کامیاب شخصیت بننے والے مسٹر  وانگ بتاتے ہیں کہ تحمل مزاجی ہی وہ ایسا گر ہے جو زندگی بھر انسان کے کام آتا ہے اور اسے سیکھنے میں صرف ایک منٹ درکار ہے۔ انہوں نے اپنے 31 سالہ کیرئیر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پرزور دیا ہے کہ تحمل مزاجی کامیابی کیلئے بہت ضروری ہے۔

مہارت تجربے اور عظم و ہمت سے حاصل ہوتی ہے

ایک کہاوت ہے کہ ”مشق انسان کو کامل بناتی ہے“ یعنی ناکامی کے آگے ہار نہ مانیں بلکہ بار بار کوشش کرتے رہیں تاکہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔  نیلسن وانگ کہتے ہیں،  ”جب میں نے لکھنا شروع کیا تو دوست احباب میری تحریروں کا مزاق اڑایا کرتے تھے کیونکہ  ان میں بہت سی تکنیکی اور گرامر کی غلطیاں ہوتی تھیں“۔   بہترین کتاب ”The Resume is Dead“ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ان کے عظم و ہمت کے جذبے نے انہیں ہار ماننے کے بجائے محنت کی ترغیب دی جس سے ان کے کام میں بہتری آتی گئی۔  اور پھر فوربز، ہفنگ ٹن پوسٹ اور بزنس ان سائیڈر جیسے معروف جریدوں میں ان کی تحریریں شائع ہونے لگیں۔  مختصر یہ کہ اگر آپ خود کو کسی شعبے میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمت نہ ہاریں بلکہ تحمل مزاجی اپناتے ہوئے محنت کریں اور اپنی غلطیوں سے سیکھتے رہیں۔ انشااللہ ایک دن ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔

تحمل مزاجی انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتی ہے

جذباتی اور غیر سنجیدہ لوگ ناکامی پر راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں جبکہ تحمل مزاج افراد ناکامی کو خوش دلی سے قبول کرکے مستقبل کے بارے میں پہلے سے بہتر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کیریئر کے آغاز میں دوکان پر سیلزمین کی ملازمت اختیار کرنے والے نیلسن وانگ لکھتے ہیں،  ”میری پہلی کتاب ”Push“ بری طرح ناکام ہوئی،  اس کی چند کاپیوں کے زیادہ تر خریدار میرے اپنے دوست احباب ہی تھے۔ لیکن میں نے دلبرداشتہ ہوکر ہمت نہیں ہاری بلکہ تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری کتاب لکھ ڈالی جو میری شہرت کا سبب بنی“۔  ماضی کی ناکامیوں پر پچھتانے کے بجائے اپنے حال پر بھرپور توجہ دیں تاکہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل روشن بنا سکیں۔  مایہ ناز برازیلین فٹبالر پیلے کا قول ہے، ”کامیابی حادثاتی نہیں ہوتی۔ یہ محنت، تحمل مزاجی، تعلیم، قربانی اور سب سے بڑھ کر اپنے مقصد سے جنونی محبت سے حاصل ہوتی ہے“۔

صبر کا پھل میٹھا

نیلسن وانگ اپنی مشہور کتاب ”The Resume is Dead“ کے بارے میں بتاتے ہیں، ”میرے خیال میں یہ کتاب لکھنے کیلئے چند ماہ درکار تھے مگر اس کی تکمیل میں پورا سال لگ گیا“۔ یہاں مصنف نے اپنی سابقہ کتاب ”Push“ کی ناکامی سے سبق حاصل کیا اور جلد بازی کے بجائے صبر سے کام لیتے ہوئے اسے بہتر سے بہتر بنایا اور تمام غلطیاں دور کرنے پر بھرپور محنت کی۔ یہی وجہ تھی کہ اس مرتبہ وانگ کی یہ کتاب بہترین کتابوں کی فہرست میں آگئی اور وہ اس کی 40,000 سے زائد آن لائن کاپیاں فروخت کرنے میں کامیاب رہے۔بہترین کام کیلئے صبر آزما محنت اور وقت درکار ہوتا ہے جو تحمل مزاجی کے بغیر ممکن نہیں۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn