Upbringing and Training

سات دلچسپ گیمز جو بچوں کے ساتھ کہیں بھی کھیلی جاسکتی ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

سوشل میڈیا پر بچوں کی تربیت سے متعلق ایک دلچسپ مضمون پڑھنے کو ملا تو  مجھے اپنا دوست یاد آگیا۔ اس کا 3 سالہ بیٹا ہر وقت ٹیبلٹ  پر ویڈیو گیمز  کھیلتا رہتا ہے جس سے اس کی ماں بھی خاصی پریشان ہے۔ مختلف کاموں میں مصروف والدین  اپنے کمسن بچے کو بہلانے کیلئے سمارٹ فون یا ٹیبلٹ دے دیتے ہیں، اس سے مسئلہ وقتی طورپر حل تو ہو جاتا ہے لیکن دوسری طرف بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی ایسی چیزوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھیں  مگر ہر کام میں اعتدال پسندی ضروری ہے۔

آرٹ آف مین لینس“ (artofmanliness.com) کے اس مضمون میں چھوٹے بچوں کا دل بہلانے کے فن کو موضوع بنایا گیا ہے۔  ایئرپورٹ، ریلوے سٹیشن ، ہسپتال یا پھر ریستوران میں چھوٹے بچوں کے ساتھ انتظار کرنا کافی مشکل کام ہوتا ہے۔ یہاں ان کی تفریح کا سامان نہیں ہوتا۔  بچہ بور ہونے لگتا ہے اور گھبراہٹ کا شکار ہوکر رونے لگتا ہے جس سے والدین کو بھی پبلک میں  شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں بعض  لوگ بچوں کے ہاتھ میں ٹیبلٹ یا سمارٹ فون دے کر بے فکر ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیا یہ اس مسئلے کا صحیح حل ہے؟ جی نہیں، بچے کو والدین کی توجہ درکار ہوتی ہے نہ کہ مصنوعی ٹیکنالوجی کی۔ یہاں ہم آپ کو چند ایسی دلچسپ اور سادہ گیمز کے بارے میں بتائیں گے جنہیں نہ صرف بچے پسند کرتے ہیں بلکہ اس سے ان کی ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ایسی کھیلوں کیلئے کسی میدان یا ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت نہیں، آپ کہیں بھی اپنے بچے کے ساتھ انہیں آسانی سے کھیل سکتے ہیں۔

  1. بڑا مشکل ہے یہ گانا ذرا گا کہ دکھانا! اگر آپ کے بچے کو موسیقی کا شوق ہے تو یہ سب سے اچھی گیم ہے۔ کوئی مشہور گانا جیسے بچوں کی نظمیں ”ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار“،”بابا بلیک شیپ“ ، قومی ترانہ یا پھر ملی نغمہ جیسے ”دل دل پاکستان“ وغیرہ گنگنائیں اور بچے کو چیلنج کریں کہ وہ اسے پہچانے اور گا کر دکھائے۔
  2. آپ کتنے ذہین ہو؟ گانے کے چیلنج دل بھر جائے یا پھر بچے کو میوزک سے لگاؤ نہ ہو تو یہ دلچسپ گیم بھی کھیلی جاسکتی ہے۔ اپنی جیب سے چند سکے، کارڈ، چابی اور قلم/پنسل وغیرہ نکال کر میز پر رکھیں اور بچے کو کہیں کہ ان چیزوں کو غور سے دیکھے۔ پھر انہیں رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپ دیں اور نیچے سے کوئی ایک چیز غائب کردیں۔ اب رومال ہٹائیں اور بچے سے پوچھیں کہ کون سی چیز غائب ہوئی ہے۔ اگر بچہ گیم پسند کرے تو اسے بھی ایک موقع دیں تاکہ وہ بھی آپ کی ذہانت کا امتحان لے سکے!
  3. یہ کون سا جانور ہے؟ اپنے ذہن میں ایک جانور کا نام سوچ کر بچے سے اس طرح کا سوال کریں، ”میں 4 ٹانگوں والا جنگلی جانور ہوں، تم میرا نام بتاسکتے ہو؟“ اور پھر اسے اشارے دینے کیلئے سوال کرنے دیں۔ بچہ آپ سے سوال پوچھ سکتا ہے، ”کیا تم دھاڑتے ہو؟“ (جیسے شیر) یا ”کیا تم پانی کے تالاب میں رہتے ہو؟“ (جیسے مگرمچھ)۔
  4. رنگوں کی پہچان: جن بچوں نے رنگوں کے نام سیکھ لئے ہیں، انہیں اپنے اردگرد موجود چیزوں کے رنگوں کی پہچان کرنے کو کہیں۔ مثلاً اگر آپ کو ریستوران میں نیلے رنگ کا پوسٹر نظر آتا ہے تو بچے سے پوچھیں، ”یہاں نیلا رنگ موجود ہے، کیا تم بتا سکتے ہو کہ یہ کہاں پر ہے؟“
  5. جیومیٹری ٹیسٹ: رنگوں کی طرح جیومیٹری کی مختلف شکلوں کا امتحان نہ صرف بچے کا دل بہلانے میں کام آئے گا بلکہ اس کی تعلیمی قابلیت میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔ بچے کو کہیں کہ اپنے اردگرد گول دائرہ، چوکور مستطیل اور تکون وغیرہ کو  ڈھونڈ کر دکھائے  مثلاً کھانے کا میز ، کھڑکیاں وغیرہ۔
  6. بوجھو تو جانیں! مختلف جانوروں کی پہچان کی طرح آپ آسان پہیلیاں بھی بچوں کا دل بہلانے کیلئے اچھا مشغلہ ہے۔ مثلاً  ”5 دوست کمرے میں بیٹھے ہیں، ان میں سے 2 باہر جانے کا سوچتے ہیں، اب کمرے میں کتنے لوگ بچے؟“ (جواب: 5 ہی ہیں کیونکہ 2 نے باہر جانے کا سوچا ہے، گیا کوئی بھی نہیں)
  7. میری مٹھی میں بند ہے کیا؟ یہ سب سے آسان کھیل ہے۔ ایک سکہ دونوں ہاتھوں میں لیں اور اسے بچے کی نظروں سے چھپا کر ایک مٹھی میں بند کردیں۔ پھر بچے سے کہیں کہ کس ہاتھ میں چیز ہے اور کون سا خالی ہے۔ ایسا  باری باری کریں، ایک موقع بچے کو دیں  تاکہ وہ اپنے ایک ہاتھ میں سکہ چھپا کر آپ کو چیلنج کر سکے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn