Health, News

کیا آج کا انسان سو سال سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn

پرانے زمانے میں انسانوں کی عمریں ہزاروں سال ہوا کرتی تھیں۔پھر آہستہ آہستہ عمر کی حد گھٹنے لگی۔آج سائنسدان یہ ریسرچ کرنےمیں لگے ہوئے ہیں کہ ایک صحت مند انسان کتنےسال تک زندہ رہ سکتا ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی موت کا تعلق بیماریوں سے زیادہ اُس  کےبڑھاپے میں  جسمانی تبدیلیوں کے عمل سے ہے۔کچھ ہی دن پہلے sciencealert.comمیں انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کے متعلق ایک آرٹیکل شائع کیا گیا،جس کے مطابق موجودہ دور میں سب سے زیادہ عمر “جینی کالمنٹ “نامی عورت کی ریکارڈ کی گئی ہے۔اُس کا انتقال 1997 میں اُس وقت ہوا جب وہ 122 سال کی تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بوڑھا ہونے کے عمل میں زیادہ دخل کس چیز کا ہے؟ کیا یہ حیاتاتی عوامل ہیں یا قدرتی تبدیلیاں؟اِس سوال کو مشہور مصنفین ژاؤ ڈونگ، برینڈن مِل ہولینڈ اور جان وِجگ نے اٹھایا۔ انہوں نےاکتالیس ممالک سے معلومات اکٹھی کیں۔

عمر کی حد میں بتدریج کمی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ آج ہم جو خوراک کھاتے ہیں، وہ خالص نہیں۔ٹیکنالوجی کا استعمال اِس قدر کرتے ہیں کہ اِس کے نقصانات بھول جاتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ نہیں۔ طرح طرح کے جراثیم اور بیماریاں جنم لے چکی ہیں۔حتیٰ کہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی آپ کے سامنے ہیں۔

اینٹی بائیوٹکس کا استعمال عام ہے، ویکسی نیشن کی مہمات زوروں پر ہیں اور اِس کے علاوہ  ماں اور نوزائیدہ بچے کی شرح اموات کو کم کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بُڑھاپے میں بھی اُتنا ہی فعال ہو کر کام کرتے ہیں جتنا کہ ایک جوان انسان ۔انہیں کوئی بیماری بھی نہیں ہوتی ،لیکن پھر اچانک کیا ہوتا ہے کہ  اُن کی موت واقع ہو جاتی ہے؟ یہ یقیناً قابلِ تحقیق بات ہے اور سبھی کو موت کی وجہ جاننے کا تجسس ہے۔

جی ہاں! سائنسدان اور ریسرچرز، سب اپنے اپنے طریقے لگا کر اِس کوشش میں  ہیں کہ کسی طرح انسانی عمر کی حد کو بڑھایا جا ئے۔

دراصل بڑھاپے میں ہمارے خلیے  یا تو دوبارہ بن نہیں پاتے یا پھر اِن کے بننے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔اینٹی ایجنگ  محققین چاہتے ہیں کہ جس طرح مدتِ حیات کو بڑھانے پر ریسرچ ہو رہی ہے، اسی طرح صحت  کی مدت  کو بڑھانےپر بھی غور کیا جائے۔

والٹر لونگو ، جو کہ یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیا لونگیویٹی انسٹیٹیوٹ  کے ڈائریکٹر اور بڑھاپے وحیاتیاتی سائنس کے پروفیسر ہیں، نے ایک ایسی خوراک بنائی ہےجسے کھا کر انسانی عمر کی حد کو دس فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

مصنیفین اِس بات کو نہیں مانتے۔اُن کا کہنا ہے ، کیا ہر کسی کو یہ خوراک کھلاتے پھریں گے؟ یقیناً کوئی قدرتی حل تلاش کرنا ہو گا۔

پچھلی دو صدیوں سے تو انسان 80، 90 سال کی عمر سے زیادہ جی نہیں پا رہا۔گنتی کے لوگ ہی ہیں جو سو سال سے زیادہ جیتے ہیں۔یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے ۔ ہمیں اِس کے حتمی نتائج کا انتظار رہے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on StumbleUponPin on PinterestShare on LinkedIn